اب دوا ہو یا دعا ، اس سے بھلا کیا ہوگا
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississauga, Canadaاب دواَ ہو یا دعا ، اِس سے بھلا کیا ہوگا
درد کچھ اور بڑھے گا تو اِفاقہ ہوگا
گر نہ بدلے ترِے حالات تو اے شہرِ دل
تیری گلیوں میں بہت خون خرابہ ہوگا
ایک وہ بات جسے ہم نہ کبھی کہہ پائے
دیکھ لیجئے گا اُسی بات کا چرچا ہوگا
اب تو حد یہ ہے کہ تنگ آکے بھنور پوچھتا ہے
کچھ تو فرمائیے کب پار یہ دریا ہوگا
مجھکو خود اپنے بدلنے پہ یقیں ہے، لیکن
دل یہ کہتا ہے کہ وہ شخص نہ بدلا ہو گا
یہ تو سوچا بھی نہیں تھا کہ کبھی میری طرح
وہ بھی محفل میں کسی میز پہ تنہا ہوگا
مجھکو معلوم ہے انور ترِے نقلی پنَ میں
فرق ہوگا بھی اگر کچھ تو ذرا سا ہوگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






