اب محبت ذرا نبھاؤ جناب !
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillبہت تھا آپکو بھی چاؤ جناب
اب محبت ذرا نبھاؤ جناب
نکلے ہو تو جان بھی لو گے
بکتی ہے آرزو کس بھاؤ جناب
آنے والا ہے کوئی شب دیدہ
روپ کی وادیاں سجاؤ جناب
ہم بھی کچھ آسرے پہ بیٹھے ہیں
پیار سے ہم کو بھی بلاؤ جناب
یاد کی ٹہنیاں سلگنے لگیں
داستاں ایسے نہ سناؤ جناب
پہلے کیا حشر کم ہیں دنیا میں
اشک نہ اس قدر گراؤ جناب
اب کہاں جا رہے ہو مستی میں
دیکھ لو روح کا بہاؤ جناب
لوٹ کے آؤ گے میرے ہی پاس
جانا چاہو تو چلے جاؤ جناب
چیختی رہ ہی جائیں شریانیں
خون کو اس طرح گھماؤ جناب
کب سے اوڑھے خزاں کو بیٹھا ہوں
پھول چپکے سے کچھ کھلاؤ جناب
کام ہیں اور بھی الفت کے سوا
ہر سمے ایسے نہ ستاؤ جناب
دل کہاں سب کیلئے کھلتا ہے
تم تو مالک ہو چلے آؤ جناب
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






