اب مری جان تم
Poet: وَرْد بزمی By: Ward Bazmi , Islamabadہم بہاروں میں ملتے رہے مدتوں
چاہتوں کے کنول
دل کی جھیلوں میں کھلتے رہے مدتوں
وا نگاہوں سے ہم خواب بنتے رہے
پھول چنتے رہے
بیٹھ کر سایہءِ شاخِ گل کے تلے
ہر کلی کے چٹکنے کی دھیمی سی آواز سنتے رہے
پیار کے راستے مسکراتے رہے
خواہشوں کے محل ہم بناتے رہے
پھر اچانک جدا راستے ہو گئے
قربتیں کھوگئیں
فاصلے ہوگئے
پھر بہاروں کے موسم میں گل نہ کھلے
زخم ایسے ملے جو کبھی نہ سلے
ہم نہ تم سے ملے تم نہ ہم سے ملے
وقت کے ساتھ موسم بدلتے رہے
تم ہمیں بھول کر مسکراتے رہے
ہم اکیلے تمہیں یاد کرتے رہے
یاد کی آ گ میں روز جلتے رہے
اور پھر میری جاں
وقت کے سانچے میں ہم بھی ڈھلتے گئے
خواہشوں کو خود اپنی مسلتے گئے
دل کے جذبات دل میں فنا ہوگئے
ہم ترے بعد خود سے جدا ہوگئے
پھر تمہاری طرح بے وفا ہوگئے
مسکراتے ہوئے راستے آنسوؤں میں بدل بھی گئی
ہم خود اپنی لگائی ہوئی آ گ میں کب کے جل بھی گئے
تم نے جو زہر ہم کو دیا تھا اسے ہم نگل بھی گئے
خواہشوں کے محل حسرتوں کے مزاروں میں ڈھل بھی گئے
اب مری جان تم
لوٹ آؤ تو کیا
لوٹ جاؤ توکیا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






