اب نہ روکنا نہ مجھے صدا دینا
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL, Gujranwalaاب روکنا نہ مجھے صدا دینا
بس دیرے دیرے مجھے بھلا دینا
رات کا خواب جان کے مجھے
صبح ہوتے ہی مجھے مٹا دینا
غم کی آنکھ کا آنسو ہوں
مجھے نگاہوں سے گرا دینا
اِک احسان کرنا اپنے طالب پے
مجھے اپنے ہاتھوں دفنا دینا
اگر کوئی پوچھ لے میرے بارے
عام سا کوئی قصہ سُنا دینا
الوداع اے دوست خدا حافظ ترا
ترے جہان سے چلے بھلا دینا
نہالؔ اگر وہ ملے تجھے کہیں
میری شدتِ محبت اُسے بتا دینا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






