اب نہ یاد کریں گے ان کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: ayesh khan By: Ayesh Khan, karachiتوڑ ڈالی ہے ہم نے ریت اب نہ یاد کریں گے ان کو
وہ یاد آئیں تو آئیں اب نہ یاد کریں گے ان کو
ہمیں چھوڑ گئے تھے تنہا ہم ٹوٹ چکے تھے عائش
وہ نہ آئے جب پکارا اب نہ یاد کریں گے ان کو
وہ دل لگی کے چرچے وہ دل لگی کی باتیں
بھلا دیں گے ان کو دل سے اب نہ یاد کریں گے ان کو
مجھے چین آ چلا ہے مجھے دوریوں سے اب مطلب
خوشیاں مناو لوگو اب نہ یاد کریں گے ان کو
وفائیں سکھائیں ہم کو جفائیں پکڑائیں ہم کو
ہماری قدر نہ کی جنہوں نے اب نہ یاد کریں گے ان کو
ہم روتے رہیں گے عائش پر نہ پکارئیں گے ان کو
وہ سن لیں ہماری صدائیں اب نہ یاد کریں گے ان کو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






