اب وشمہ بہت بیت گیا ہم کو زمانہ

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا

خود سوزی پہ آمادہ ہیں سلگے ہوئے حالات
تخریب کی سازش سے ہیں جھلسے ہوئے حالات

دامن میں نہیں وعدہ فردا بھی کوئی اب
لشکول گدائی لئے ترسے ہوئے حالات

خود راہ گزر کور نگائی کو تھماکر
کس موڑ پہ لے جائیں گے بھٹکے ہوئے حالات

اب ان کے تھپیڑوں سے نہیں کوئی سلامت
اک سیل بلا خیز ہیں بھیرے ہوئے حالات

کیا سر نہ اٹھائیں گے کبھی جبر کے آگے
ہیں حسرت تعمیر میں سہمے ہوئے حالات

اک بند گلی میں یہ کھڑے سوچ رہے ہیں
کیا ہم کو بدل پائیں گے بدلے ہوئے حالات

اب وشمہ بہت بیت گیا ہم کو زمانہ
اس دور ستم ریز میں سہتے ہوئے حالات

Rate it:
Views: 694
22 Sep, 2020
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL