اب وہ سب کچھ کر رہے ہیں دوستی کی آڑ میں
Poet: عامر عطا By: مصدق رفیق, Karachiاب وہ سب کچھ کر رہے ہیں دوستی کی آڑ میں
غیر ممکن تھا جو شاید دشمنی کی آڑ میں
اس قدر نخرے نہ کر اے موت آ جا سامنے
کب تلک چھپ کر رہے گی زندگی کی آڑ میں
آج اک محفل میں جب اس سے نظر ٹکرا گئی
ہم نے کہہ دی دل کی باتیں شاعری کی آڑ میں
اک سلیقے سے کیا ہے پھول دے کر پھول کو
عشق کا اظہار چودہ فروری کی آڑ میں
پچھلی شب کا واقعہ اب کیا بتاؤں دوستوں
چوم آیا چاند کو میں تیرگی کی آڑ میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






