اب کم نصیب دل یہ مرا چاہتا ہے کیا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاتنہا کھڑے ہیں ہم سرِ بازار کیا کریں
کوئی نہیں ہے غم کا خریدار کیا کریں
تنہا کھڑے ہیں ہم سرِ بازار کیا کریں
کوئی نہیں ہے غم کا خریدار کیا کریں
چاروں طرف سے صورتِ جاناں ہے جلوہ گر
دل صاف ہے تو صاحبِ کردار کیا کریں
طبل و عَلم ہے پاس نہ ان کا ہے مال و زر
اب اپنے اختلاف میں سردار کیا کریں
صیّاد کر رہا ہے پرندوں کا پھر شکار
بلبل کی باغ میں یہاں چہکار کیا کریں
وہ تو کہیں ہیں اور مگر دل کے آس پاس
رہتی ہے کوئی چیز تو دلدار کیا کریں
اہلِ وفا کا نام بھی بدنام کر دیا
اس کے سوا یہ اور بھی بیکار کیا کریں
یوں مدّعی حسد سے نہ دے داد تو نہ دے
وشمہ غزل کے ہو گئے اشعار کیا کریں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






