اب کہ ہر موسم ہی رضا، موسم ِ غم لگتا ہے

Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabad

ہرشخص جسے دیکھو یہاں شعلہ چشم لگتا ہے
اب دنیا میں تیری سانس لینا بھی جرم لگتا ہے

لذتِ غم ایسی ہے کہ احساس سے عاری ہے بدن
اب کہ ہرعارضہ مجھ کوتیرا لُطف و کرم لگتا ہے

ہر رستہ ہے پرُخار، ہرشب شبِ درد ہو جیسے
اذیت کی امر بیل پر ہر روز نیا زخم لگتا ہے

گریزاں ہیں سبھی مجھ سے کہیں ایسا تو نہیں
کچھ مجھ میں کمی ہوگی کچھ مجھ میں سقم لگتا ہے

ساتھ رہنے کی میرے، اُٹھا رکھی ہو قسم جیسے
یہ ہجر کا غم بھی میری طرح پُختہ عزم لگتا ہے

یہ زیست ِ لاحاصل اُس کی دہلیز پہ گزری ہے
کیا پوچھتے ہو میرا کیا وہ پتھرکا صنم لگتا ہے

لگتا ہے ٹوٹ کے بکھرے ہو بڑی شدت سے
لہجے میں بڑاکرب، باتوں میں بڑا دم لگتا ہے

کچھ عجب سی ہوا چلی ہے دل کےآنگن میں
اب کہ ہر موسم ہی رضا، موسم ِ غم لگتا ہے

تیری یاد میری آنکھوںمیں جھلماےئی ہے
آج پھر ٹوٹ کے برسے گا یہ ابرِکرم لگتا ہے

 

Rate it:
Views: 804
09 Jul, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL