اب کہہ دو وہ سب جھوٹ تھا (2)
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL, Gujranwalaچھت پہ کھڑے ہو کے دھوپ میں
مئی ، جون کی شدید گرمی میں
اَیڑیاں اُٹھا کے میرا انتظار کرنا
ہاتھ ماتھے پہ رکھ کر بے چینی میں
مجھے صدا دینی ، مجھے تلاش کرنا
بے قراری تری ، و ہ تری دیوانگی
اب کہہ دو
وہ سب جھوٹ تھا
مجھے اِس راز سے آشنا کر دو
انتظار جھوٹا تھا یا دیدار ترا
اظہار جھوٹاتھا یا انکار ترا
صرف اِس راز سے
پردہ اُٹھاؤ جاناں!
اب جھوٹ ہے یا
تب جھوٹ تھا
نہال کو بتلاؤ جاناں!
کب جھوٹ تھا
اب کہہ دو
وہ سب جھوٹ تھا
اب کہہ دو،
کہ
سب جھوٹ تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






