اب کیا لکھیں ہم

Poet: By: NS, Lahore

اب کیا لکھیں ہم کاغذ پر
اب لکھنے کو کیا باقی ہے

اک دل تھا سو وہ لٹ گیا
اب لٹنے کو کیا باقی ہے

اک شخص کو ہم نے چاہا تھا
اک ریت پہ نقش بنایا تھا

ان ریت کے زروں کو ہم نے
پھر اپنے دل میں سجایا تھا

وہ ریت تو کب کی بکھر گئی
وہ نقش کہاں اب باقی ہے

ہم جن کو اپنی نظموں کا
عنوان بنایا کرتے تھے

لفظوں کا بنا کر تاج محل
کاغذ پہ سجایا کرتے تھے

وہ ہم کو اکیلا چھوڑ گئے
سب رشتوں سے منہ موڑ گئے

اب رشتے سارے سونے ہیں
وہ پیار کہاں اب باقی ہے

اب کیا لکھیں ہم کاغذ پر
اب لکھنے کو کیا باقی ہے

اک دل تھا سو وہ لٹ گیا
اب لٹنے کو کیا باقی ہے

Rate it:
Views: 1378
26 Nov, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL