ابتدا کی ہر نظر تو کتنی غمگین ٹھہرتی ہے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiابتدا کی ہر نظر تو کتنی غمگین ٹھہرتی ہے
ہم نے پالی جو صدا یہ بڑی سنگین ٹھہرتی ہے
فصاحت میں اتنے بیشمار پہلوُ کہاں سے آئے
اپنے بیاں میں تو ہمیشہ تسکین ٹھہرتی ہے
امیدوں کا الم لیئے دوڑتے ہیں دن بھر سبھی
ہاں ایک یاد ہر رات کیسے رنگین ٹھہرتی ہے
خیالوں کے بادل کو آشیانہ نہ ملا آج تک
پھر بھی ہمارے پاؤں تلے یہ زمین ٹھہرتی ہے
اندر کتنا معطر کسی نے بھی نہیں دیکھا
آس پاس جستجوُ کہ کوئی شمیم ٹھہرتی ہے
قول و فعل کی ہیں الگ الگ بستیاں سنتوشؔ
ہمارے عہد میں روز ایک ترمیم ٹھہرتی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






