ابتداء کہاں سے کہاں انتہاء ہوئی!
Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آباد, پنجاب, پاکستاننۃابتداء کہاں سے کہاں انتہاء ہوئی
نہ پوچھ کون جیتا کسے سزا ہوئی
محبتوں کا شہر اجڑا کس طرح
بغاوتیں تھی کس کی کس سے خطا ہوئی
تسلسل سا رہا میری وفاؤں میں بھی
اس کی بھی کبھی کم نہ جفا ہوئی
وہ جانتا بھی نہیں آداب ء رفوگری
حیراں ہوں اس کی دید میری دواء ہوئی
وقت کی دھول نے دھندلا دیا ہو شاید
یاد سے تیری کہاں فراغت بھلا ہوئی
ہم تو برسر ء الزام ہی سہی
تو بتا تجھ سے کیا نبھا ہوئی
بھکاری بن کے تیرے شہر میں ستم گر
کئی بار دربدر محبت رسوا ہوئی
روبرو ہوا جب عشق کے جنوں
عنبر لگا مجھے مقبول دعا ہوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






