ابتدائے عشق نے یارو! شمشیر نئی مانگی ہے

Poet: فرخ اقبال By: Farakh Iqbal, Lahore

ابتدائے عشق نے یارو! شمشیر نئی مانگی ہے
نیا قصہء درد مجھ سے؛ نظیر نئی مانگی ہے

شامِ غم بھولا کر تیرے پہلو میں دل نشیں
میری محبت نے تم سے تانیر نئی مانگی ہے

چل رہے ہیں گویا ہم اسی فرش خاکی پہ
تمناؤں نے مگر پھر سے اثیر نئی مانگی ہے

چھوڑ کر تو نہیں جا رہا تجھے میں ہمنوا
بس یونہی زلفوں کی اسیر نئی مانگی ہے

توڑ کر آئے تھے حدیں تمام جس کی خاطر
اُسی جفا کار نے عشق میں لکیر نئی مانگی ہے

میرا عشق نہیں ہے مختاج تیرے لفظوں کا فرؔخ
زمانے کو دکھانے کے لیے تقریر نئی مانگی ہے

رسوائے زمانہ ہوں پرخار ہے دامن انتظار
کچھ نہیں بس تم سے توقیر نئی مانگی ہے

Rate it:
Views: 855
29 Apr, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL