ابجد میں کوئی حرف نہیں
Poet: By: Asif Muhammad Khan, dil seجاناں تیری پیار میں اب تک
جتنے میں نے شبد لکھے ہیں
تیری یاد کے رنگ میں رنگ کر
چن چن کر جو حرف لکھے ہیں
یہ سب تو بس لفظ ہیں جاناں
تیرے پیار کی ایک نظر کا
یہ تو بس قرض ہیں جاناں
سچ تو یہ ہے سچ تو یہ ہے
میرے پاس وہ لفظ نہیں
اور ابجد میں کوئی حرف نہیں
اور میرے ساری نظموں میں
کہیں بھی اتنا ظرف نہیں
جو تیرے پیار کا منظر ہے
وہ اور کسی بھی طرف نہیں
تیرے پایر کے عین مطابق تو
ابجد میں کوئی حرف نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






