ابھی ابھی جو بسا تھا دل میں
Poet: Khalid Kasi By: Khalid Kasi, Quettaابھی ابھی جو بسا تھا دل میں، کون تھا وہ کہاں گیا
گیا نہیں وہ صرف اکیلا، سنگ اس کے ہر سماں گیا
بہار آنے سے تھوڑا پہلے، بجلیوں نے جلا ہی ڈالا
چھو ڑ کر میں اپنا گلشن، آ با د کرنے بیا با ں گیا
لہو سے سینچا تھا جس کو میں نے، وہ سحر نجانے کہاں گئی
بھٹکتا رہا میں تلاش میں بس، نجانے کہاں وہ نشاں گیا
مہکے مہکے سے راستے ہیں، ضرور گزرا ہے وہ یہاں سے
ھوا اشارہ دے رہی ھے، وہ کہاں سے گزرا کہاں گیا
رنگیں سماں ھے برسات بھی ھے، پھر بھی دل میں ویرانیاں ھیں
ھو نہ پائے آباد اب یہ، وہیں بکھرا میں جہاں گیا
دن بھی ڈھلتا جا رھا ھے، شام نزدیک آ رھی ھے
جل رھا نہ چراغ کاسی، چاند بھی جانے کہاں گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






