ابھی تو اسی کارواں کے مسا فر ہیں

Poet: ذیشان احمد By: ذیشان احمد, Khushab

ابھی تو اسی کارواں کے مسا فر ہیں
جس میں تمہارے ہمسفر ٹھہرے ہیں

راستے کب ، کیسے جدا ہو جائیں کیا خبر
کر لو آؤ بھگت دو دن جو مہماں ٹھہرے ہیں

میں ان پختہ گلیوں ، پکےمکانوں سےدورکاباسی ہوں
چند مجبوریوں کے باعث تیرے شہر اماں میں ٹھہرے ہیں

محبت راس نہ آئی تو شعر کہنے لگ پڑے ہیں
کہتے ہیں کبھی ہم بھی صاحب عر فاں ٹھہرے ہیں

کرلو اسی عہد میں جو کرنے ہیں گلے شکو ے
پھر کیا معلوم، کیاخبر یہ رفتگاں کہاں ٹھہرے ہیں

میں ملوں گا اسے کسی اور ہی دنیا میں ذیشان
جہاں میرے جیسے درد ماندہ و پر یشان ٹھہرے ہیں

Rate it:
Views: 1037
16 Jan, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL