ابھی تو صرف اقتباس پڑھا ہے
Poet: درشہوار By: Suhaira Hassan, Attockابھی تو صرف اقتباس پڑھا ہے
ابھی تو پوری داستاں باقی ہے
ابھی تو گننے رہتے ہیں تارے
ابھی تو سارا آسماں باقی ہے
ابھی تو کٹنی ہیں راتیں کئی
ابھی تو ہجر کا زماں باقی ہے
ابھی تو ملگجا سا ہے اندھیرا
ابھی تو صبح کا نشاں باقی ہے
ابھی تو قلم میں بھری روشنائی
ابھی تو زندگی کا فساں باقی ہے
ابھی تو رتییں ہیں بدلیوں کی
ابھی تو ابرو باراں باقی ہے
ابھی تو ہے سودا دلوں کا ہوا
ابھی تو بدن میں جاں باقی ہے
ابھی تو سجنا سنورنا ہے مجھے
ابھی تو سجن کا پیماں باقی ہے
ابھی تو سہنا ہے درد و الم درشہوار
ابھی تو عشق کا امتحاں باقی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






