ابھی تو عنوان دینا ہے
Poet: ارشد ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiابھی تو ابتداء ہے کلام کا جو تم پر لکھنا ہے
ابھی تو عنوان دینا ہے ابھی انجام لکھنا ہے
ابھی تو ابتدائے عشق کے قصے ہی لکھے ہیں
ابھی وعدے لکھنے ہیں مکر جانا بھی لکھنا ہے
ابھی وہ راز لکھنے ہیں جو تھے درمیاں اپنے
ابھی پردہ اٹھانا ہے اب ہر راز لکھنا ہے
ابھی یہ سوچنا بھی ہے کہ اس کونام کیا دونگا
کہانی سچی بتانی ہے یاصرف افسانہ ہی لکھنا ہے
اب یہ فیصلہ تم کو کرنا ہے کہ اس کو نام کیا دو گے
مجھےجھوٹا بتانا ہےیا پھرخود کو فرشتہ لکھنا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






