ابھی تو چل رہی مجبوریوں کی بات ہے

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

رات ہے ، چاند ہے
خاموشی ہیں اور دل میں
چل رہی تیری بات ہے
ہوا میں خشبوں ہے
عجیب سا نشا ہے
دنیا کی بیڑ میں اک
تو ہی تو میرا اپنا ہے
ستارے ہیں ، جنگنوں کی بہاریں ہے
لگتا ہیں یوں ، جیسے
تیرے آنے کے اشارے ہے
لہریں ہیں ، موج ہے
دل میں تجھے دیکھنے کی سوچ ہے
آسمان ہیں ، اسے دیکھتی
حسرت بھری نگاہ ہیں
لب ہیں ، دعا ہیں
تم آ جاو جلدی سے
نکل رہے منہ سے فقط یہی الفاظ ہیں
خدا ہیں ، تو پھر وہ کہا ہے
وہ ہمارے ساتھ ہیں تو
ہمارے ملنے کی آس ہے
یقین ہیں ملن ہو گا اک دن ضرور لکی
مگر ابھی تو چل رہی
مجبوریوں کی بات ہے

Rate it:
Views: 542
25 May, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL