ابھی تیرا طفلِ عروج ہے تجھے پستیوں کی خبر نہیں
Poet: shahzad hussain sa'yl By: shahzad hussain sa'yal, Sialkotابھی تیرا طفلِ عروج ہے تجھے پستیوں کی خبر نہیں
تو سمجھتا خود کو عظیم ہے تجھے ہستیوں کی خبر نہیں
ترے چار سو مرے چارہ گر ابھی دوستوں کا ہجوم ہے
تو ہے چاہتوں کے جہان میں تجھے تلخیوں کی خبر نہیں
ترا چلنا اپنی انا میں اور ترا گانا اپنی ثنا میں خود
یہ تو دل فریب ہیں مشغلے تجھے مستیوں کی خبر نہیں
سرِ عام تو نہ یہ بات کر کہ بہت ہوں خوش میں جی آجکل
ترا چھین لیں گے یہ سب یہاں تجھے بستیوں کی خبر نہیں
یہاں جو بھی آیا وہ لٹ گیا نہ سنبھل سکا نہ پلٹ سکا
مری بات سن تو نہ آیا کر تجھے میکدوں کی خبر نہیں
ترا دیکھنا مجھے بار بار یوں سب کے بیٹھ کے درمیاں
ترا بانکپن ہے نیا نیا تجھے محفلوں کی خبر نہیں
ابھی اور کتنا ستاؤ گے یہاں تم ہی لوٹ کر آؤ گے
مجھے اور کتنا جگاؤ گے تجھے رتجگوں کی خبر نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






