ابھی خاموش ہیں شعلوں کا اندازہ نہیں ہوتا
Poet: مظفر رزمی By: نعمان, Lahoreابھی خاموش ہیں شعلوں کا اندازہ نہیں ہوتا
مری بستی میں ہنگاموں کا اندازہ نہیں ہوتا
جدھر محسوس ہو خوشبو اسی جانب بڑھے جاؤ
اندھیری رات میں رستوں کا اندازہ نہیں ہوتا
جو صدیوں کی کسک لے کر گزر جاتے ہیں دنیا سے
مورخ کو بھی ان لمحوں کا اندازہ نہیں ہوتا
یہ رہبر ہیں کہ رہزن ہیں مسیحا ہیں کہ قاتل ہیں
ہمیں اپنے نمائندوں کا اندازہ نہیں ہوتا
نظر ہو لاکھ گہری اور بصیرت آشنا پھر بھی
نقابوں میں کبھی چہروں کا اندازہ نہیں ہوتا
زمیں پر آؤ پھر دیکھو ہماری اہمیت کیا ہے
بلندی سے کبھی ذروں کا اندازہ نہیں ہوتا
وفاؤں کے تسلسل سے بھی اکثر ٹوٹ جاتے ہیں
محبت کے حسیں رشتوں کا اندازہ نہیں ہوتا
اتر جاتے ہیں روح و دل میں کتنی وسعتیں لے کر
غزل کے دل ربا لہجوں کا اندازہ نہیں ہوتا
سلیقے سے سجانا آئینوں کو ورنہ اے رزمیؔ
غلط رخ ہو تو پھر چہروں کا اندازہ نہیں ہوتا
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






