ابھی روٹھنا نہیں منایا نہ جائے گا

Poet: Naveed Ahmed Shakir By: Naveed Shakir, Faisalabad

ابھی روٹھنا نہیں منایا نہ جائے گا
جو مجبور آج ہوں تو آیا نہ جائے گا

کہاں اس قدر عذاب تھی زندگی مری
کوئی آنسو آنکھ میں سجایا نہ جائے گا

یوں تو درد سے بھری پڑی ہے یہ زندگی
کوئی غم بھی ہجر کا اٹھایا نہ جائے گا

ملے ساتھ ہی ترے خوشی ہر زمانے کی
بچھڑ کے کہیں بھی چین پایا نہ جائے گا

رکھو گا سنبھال کے عمر بھر ترے یہ خط
کوئی ایک خط بھی اب جلایا نہ جائے گا

محبت نہیں یہ کچھ دنوں کی فقط مری
ترا اک خیال بھی بھلایا نہ جائے گا

ترے در کے ہی رہے سوالی ابھی بھی ہوں
کہیں اور مجھ سے دل لگایا نہ جائے گا

Rate it:
Views: 870
24 Jan, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL