ابھی روٹھنا نہیں منایا نہ جائے گا
Poet: Naveed Ahmed Shakir By: Naveed Shakir, Faisalabadابھی روٹھنا نہیں منایا نہ جائے گا
جو مجبور آج ہوں تو آیا نہ جائے گا
کہاں اس قدر عذاب تھی زندگی مری
کوئی آنسو آنکھ میں سجایا نہ جائے گا
یوں تو درد سے بھری پڑی ہے یہ زندگی
کوئی غم بھی ہجر کا اٹھایا نہ جائے گا
ملے ساتھ ہی ترے خوشی ہر زمانے کی
بچھڑ کے کہیں بھی چین پایا نہ جائے گا
رکھو گا سنبھال کے عمر بھر ترے یہ خط
کوئی ایک خط بھی اب جلایا نہ جائے گا
محبت نہیں یہ کچھ دنوں کی فقط مری
ترا اک خیال بھی بھلایا نہ جائے گا
ترے در کے ہی رہے سوالی ابھی بھی ہوں
کہیں اور مجھ سے دل لگایا نہ جائے گا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






