ابھی مدہوش رہنے دو
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, wales ukابھی خاموش رہنے دو ابھی مدہوش رہنے دو
مجھے ہر بات دل کی تم نگاہوں سے ہی کہنے دو
میں اک پتھرکی مورت کی طرح کب تک تجھے دیکھوں
مجھے تم آج جذبوں کے تلاطم میں بھی بہنے دو
ترنم بھی اگر پھوٹا تو سانسیں کانپ جائیں گی
مرے لب پہ ذرا تم اپنے لب کچھ دیر رہنے دو
بچھڑنے اور ملنے سے نئے موسم بھی بنتے ہیں
میری آغوش میں ان موسموں کو قید رہنے دو
گلابوں کی طرح تم مسکراؤ باغِ ہستی میں
مگر تم زخمِ دل کی ہر کسک مجھ کو ہی سہنے دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






