ابھی کچھ وقت باقی ہے
Poet: قدسیہ انعام By: قدسیہ انعام, Lahoreیہ مشکل وقت ٹلنے میں ابھی کچھ وقت باقی ہے
سماں ظالم بدلنے میں ابھی کچھ وقت باقی ہے
میری حیثیت، وقت، وقعت سب بدل چکا
تمہارا وقت بدلنے میں ابھی کچھ وقت باقی ہے
وہ دل جو ایک لمحے میں میرا دشمن ہے بن بیٹھا
اسے تم سے بدلنے میں ابھی کچھ وقت باقی ہے
صرف موسم نہیں جاناں رویے بھی بدلتے ہیں
پذیرائی کے ڈھلنے میں ابھی کچھ وقت باقی ہے
وہی ظالم وہی منصف بنے اپنی کچہری میں
جہاں ان کا بدلنے میں ابھی کچھ وقت باقی ہے
وہی میرا خدا بھی ہے کہ جس پر ناز ہے تم کو
نقابوں کے اترنے میں ابھی کچھ وقت باقی ہے
مناؤ جشن ہنسو کھیلو ابھی مستی کاموسم ہے
میری مشکل کے ٹلنے میں ابھی کچھ وقت باقی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






