اترن

Poet: سنجھا سانول By: سنجھا سانول, Matli

وہ اپنے بھائی کی جگہ پیدا ہونے والی
اپنی ماں کو موت کے منہ سلانے والی
اپنے باپ کی ان چاہی بیٹی
سدا بڑی بہنوں کی اترن پہ گذارا کرنے والی
گھر والوں کے حکم پہ سر جھکا کہ عمل پیرا ہونے والی
معصوم سی سہمی سی گڑیا
جس کی جاۓ پناہ بس نانی کی گود ہوا کرتی تھی
نانی کہ دیے دلاسوں پہ کہ
اس کی سنائی کہانیوں سا شہزادہ
اس کی زندگی میں بھی ائیگا
جو اپنی خوبصورت دنیا میں
لے جا کے اس کی ساری محرومیوں کا ازالہ کریگا
بہنوں کی اترن سے خلاصی دلائیگا
اسی امید پہ زندگی بسر کیا کرتی تھی
اسے اس کے سپنوں کا شہزادہ ملا
طویل تھکا دینے والی مسافتوں کے بعد
مگر اپنی طلاق یافتہ بہن کے
شوہر کی صورت
بہن کی اترن کے طور پہ۔

Rate it:
Views: 277
04 Dec, 2024
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL