اتنا کیوں چلیئے آپ نازون سے اکڑ کر

Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, MPK

 اتنا کیوں چلیئے آپ نازون سے اکڑ کر
کون سا ہم مر گئے ہیں تم سے بچھڑ کر

اتنا غرور حسن پر اپنے کس لیے؟
اور وہ اترانا بارہا اکڑ اکڑ کر۔

آہ کیسے بھول گیا تو پیار کے لمحے؟
وہ ساتھ ساتھ میں چلنا انگلی پکڑ کر۔

آہ کیسے بھول گیا تو پیار کا ساون۔
وہ بارش میں بھیگنا آنچل مٰن لپٹ کر

آہ کیسے بھول گیا تو اپنے قریب آنا؟
اور لپٹنا سمٹنا مجھ سے یار جکڑ کر

کیا؟ ان پلوں کی تم کو یاد نہیں آتی؟
وہ پیار کرنا باہم باھوں میں جکڑ کر؟

آہ اتنی بے رخی اچھی نہیں صاحب۔
کیا ملے گا تم کو اسد سے بچھڑ کر؟

Rate it:
Views: 599
02 Dec, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL