اتنا کیوں چلیئے آپ نازون سے اکڑ کر
Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, MPK اتنا کیوں چلیئے آپ نازون سے اکڑ کر
کون سا ہم مر گئے ہیں تم سے بچھڑ کر
اتنا غرور حسن پر اپنے کس لیے؟
اور وہ اترانا بارہا اکڑ اکڑ کر۔
آہ کیسے بھول گیا تو پیار کے لمحے؟
وہ ساتھ ساتھ میں چلنا انگلی پکڑ کر۔
آہ کیسے بھول گیا تو پیار کا ساون۔
وہ بارش میں بھیگنا آنچل مٰن لپٹ کر
آہ کیسے بھول گیا تو اپنے قریب آنا؟
اور لپٹنا سمٹنا مجھ سے یار جکڑ کر
کیا؟ ان پلوں کی تم کو یاد نہیں آتی؟
وہ پیار کرنا باہم باھوں میں جکڑ کر؟
آہ اتنی بے رخی اچھی نہیں صاحب۔
کیا ملے گا تم کو اسد سے بچھڑ کر؟
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






