اجازت
Poet: نوید رزاق بٹ By: نوید رزاق بٹ, سویڈناجازت
او جانے والے
چلے ہی جانا
ذرا رکو تو
!ذرا، سُنو تو
تمھاری خاطر جو لمحہ لمحہ بکھرتے آنسو جمع کئے تھے
جو درد سارے یُوں سہ لئے تھے
اُن آنسوؤں کا حساب لے لو
سلام کہہ دو جواب لے لو
چلے ہی جانا
ذرا رکو تو
!ذرا، سُنو تو
جو دِیپ دل کی اندھیر راہوں میں رفتہ رفتہ ہوئے تھے روشن
جو گیت کرتے تھے تیرے درشن
وہ گیت سارے وہ دِیپ سارے
جلا کے جانا بجھا کے جانا
نظر نظر سے مِلا کے جانا
!چلے ہی جانا
ذرا رکو تو
!ذرا، سُنو تو
قدم قدم پر بکھرتے پتے تمھاری یادیں کریں گے تازہ
!یہ سب بہاریں بھی ساتھ لے لو
چہکتے بلبل کا ساز لے لو
گُلوں کی رنگت کا راز لے لو
تمام منظر سراب کر دو
سبھی امنگوں کو خواب کر دو
!سُنو
یہ کارِ ثواب کر دو
!چلے ہی جانا
ذرا رکو تو
!ذرا، سُنو تو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






