اجالے ہو گئے زندہ مری غمگین آنکھوں میں
Poet: سید شیبان قادری By: Hassan, Peshawarاجالے ہو گئے زندہ مری غمگین آنکھوں میں
تم آئے تو سدا کو بس گئی تسکین آنکھوں میں
لگایا کاجل عشق اس نے جب شوقین آنکھوں میں
سمٹ آئیں سبھی رنگینیاں رنگین آنکھوں میں
مہک اٹھتی ہیں جسم و جاں کی افسردہ فضائیں بھی
جب آتا ہے پرو کر وہ گل نسرین آنکھوں میں
جو ان میں ڈوب جاتا ہے ابھر کر پھر نہیں آتا
سمندر کر رکھے ہیں بند کیا نمکین آنکھوں میں
بدن سونے کا رکھتا ہے وہ دلبر دیکھنے اس کو
لگا کر سرمۂ زریں چلو مسکین آنکھوں میں
اڑانیں بھرنے لگتی ہیں خیالوں کی ابابیلیں
جب آنکھیں ڈالتا ہوں میں تری شاہین آنکھوں میں
کئی دل پھینک دل کے آبگینے توڑ کر بھاگے
قیامت جب بپا ہونے لگی شوقین آنکھوں میں
ہمارے جذبۂ دل کو سراہو اے قلم کارو
فسانے کر دئے ہم نے رقم دو تین آنکھوں میں
لحد ایسی کسی نے بھی نہ دیکھی ہوگی اے شیبانؔ
ہزاروں حسرتوں کی ہو گئی تدفین آنکھوں میں
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






