غمگین بے مزہ بڑی تنہا اداس ہے

Poet: سدرہ سحر عمران By: Zaid, Sialkot

غمگین بے مزہ بڑی تنہا اداس ہے
تیرے بغیر تو مری دنیا اداس ہے

پھیلا ہوا ہے رات کی آنکھوں میں سوز ہجر
مہتاب رت میں چاند کا چہرہ اداس ہے

لو پھر سے آ گیا ہے جدائی کا مرحلہ
آنکھیں ہیں نم مری ترا لہجہ اداس ہے

بارش بہا کے لے گئی تنکوں کا آشیاں
بھیگے شجر کی شاخ پہ چڑیا اداس ہے

شہزادہ سو گیا ہے کہانی سنے بغیر
بچپن کے طاق میں رکھی گڑیا اداس ہے

آنکھیں منڈیر پر دھرے گزری شب وصال
لپٹا ہوا کلائی سے گجرا اداس ہے

سورج لپٹ کے جھیل کے پانی سے رو دیا
منظر فراق شام کا کتنا اداس ہے

کس کو ہیں راس ہجر کی کٹھنائیاں سحرؔ
جتنا قریب ہو کوئی اتنا اداس ہے

Rate it:
Views: 708
13 Jul, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL