اجنبی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ماسکواجنبی ہے کہ شناسا ہے
عجب شخص ہے وہ
میری نیندوں میرے خوابوں میں چلا آتا ہے
مسکراتا ہے تو
پھر دل میں مرے پھول سے کھل اٹھتے ہیں
اپنی باہوں کے مدھر گھیرے میں لے کر مجھ کو
روز لے جاتا ہے ساتھ اپنے کہیں
ایک دریا کا کنارہ ہے
حسیں وادی ہے
اور اس وادی میں
اک پیڑ کے مضبوط تنے کا وہ سہارا لے کر
ہاتھ باندھے ہوئے سینے پہ
کہیں دور نکل جاتا ہے
اس کا دعویٰ ہے کہ اس بوڑھے شجر کے نیچے
میں نے اس سے کبھی پیمان وفا باندھا تھا
اجنبی ہے کہ شناسا ہے
عجب شخص ہے وہ
اس کے لفظوں میں ہے وہ سحر
کہ میں خود کو بھلا دیتی ہوں
میری نس نس میں محبت کے کنول کھلتے ہیں
ایسا لگتا ہے وہ شامل ہے مری سانسوں میں
اور اب اس کی محبت میرا سرمایہ ہے
آج جب آئے گا وہ خواب میں میرے تو میں
اس کی سانسوں میں بسوں گی اسے اپنا لوں گی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






