اجڑ گیا ہے چمن ، لوگ دلفگار چلے
Poet: Hazrat Allama Pir Syed Naseer-ud-Din Naseer Gillani (Golra Sharif) By: Khalid Roomi, Rawalpindi اجڑ گیا ہے چمن ، لوگ دلفگار چلے
کوئی صبا سے کہو اب نہ بار بار چلے
یہ کون سیر کا ارماں لئے چمن سے گیا
کہ باد صبح کے جھونکے بھی سوگوار چلے
یہ کیا کہ کوئی بھی رویا نہ یاد کر کے انھیں
وہ چند پھول جو حسن چمن نکھار چلے
نقاب اٹھا کہ پڑے اہل درد میں ہلچل
نظر ملا کہ چھری دل کے آر پار چلے
خوشا کہ در پہ ترے سر جھکا لیا ہم نے
یہ ایک قرض جبیں تھا جسے اتار چلے
کہے جو حق وہ کرے کیوں مآل حق سے گریز
کوئی چلے نہ چلے ہم تو سوئے دار چلے
اب اس کے بعد چمن جانے یا صبا جانے
گزارنے تھے ہمیں چار دن ، گزار چلے
پلٹ کے دیکھا نہ اک بار کارواں نے ہمیں
گرے پڑوں کی طرح ہم پس غبار چلے
جو ان کی یاد میں چمکے کبھی در مژگاں
وہ چار اشک مری عاقبت سنوار چلے
تمہاری بزم سے تاثیر اٹھ گئی شاید
بحال زار ہم آئے ، بحال زار چلے
غیرب شہر کی میت کے ساتھ روتا کون
مرا سلام ہو ان پر جو اشکبار چلے
قفس میں روز دکھاتا ہے آشیاں صیاد
نصیر ! آگ لگا دوں جو اختیار چلے
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






