احترامِ محبت تو بہت تھا ‘ محبت کو مگر بچا نہ سکی

Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahore

احترامِ محبت تو بہت تھا‘ محبت کو مگر بچا نہ سکی
اعلانِ عام کیامگر اُس کو کبھی بتا نہ سکی

زمانے نے بھی تو رُسوا جی بھر کے کیا مجھے
وہ سوال کیے جو میں بھی کبھی چُھپا نہ سکی

سینے میں بڑی اندر تک تھیں گہرائیاں اُس کی
ملا نہ گیا اُس سے‘ سینے سے اُسے لگا نہ سکی

نہ وہ بھی سُن پایا کبھی دھڑکن کو میری
میں بھی اُسے دُکھ کی تنہائیاں سُنا نہ سکی

دور تک اُس کی راہوں میں ڈیرہء رنج لگایا میں نے
یہ میری بد نصیبی کہ اُسے پڑھا نہ سکی

بارہا رُکا قلم اک اُس کے نام پہ آکے
جان نہ پائی‘ نام بھی اُس کالکھوا نہ سکی

ڈال ہی نہ سکی اُس کی آنکھوں میں آنکھیں
وفا کی جھلک بھی آنکھوں میں دِکھا نہ سکی

پڑتا ہی گیا تقصیرِ محبت کا زوال مجھ پہ
نظر کے پردے میں چُھپا وہ پردہ ہٹا نہ سکی

Rate it:
Views: 542
05 May, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL