احترامِ محبت تو بہت تھا ‘ محبت کو مگر بچا نہ سکی
Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahoreاحترامِ محبت تو بہت تھا‘ محبت کو مگر بچا نہ سکی
اعلانِ عام کیامگر اُس کو کبھی بتا نہ سکی
زمانے نے بھی تو رُسوا جی بھر کے کیا مجھے
وہ سوال کیے جو میں بھی کبھی چُھپا نہ سکی
سینے میں بڑی اندر تک تھیں گہرائیاں اُس کی
ملا نہ گیا اُس سے‘ سینے سے اُسے لگا نہ سکی
نہ وہ بھی سُن پایا کبھی دھڑکن کو میری
میں بھی اُسے دُکھ کی تنہائیاں سُنا نہ سکی
دور تک اُس کی راہوں میں ڈیرہء رنج لگایا میں نے
یہ میری بد نصیبی کہ اُسے پڑھا نہ سکی
بارہا رُکا قلم اک اُس کے نام پہ آکے
جان نہ پائی‘ نام بھی اُس کالکھوا نہ سکی
ڈال ہی نہ سکی اُس کی آنکھوں میں آنکھیں
وفا کی جھلک بھی آنکھوں میں دِکھا نہ سکی
پڑتا ہی گیا تقصیرِ محبت کا زوال مجھ پہ
نظر کے پردے میں چُھپا وہ پردہ ہٹا نہ سکی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






