احساس

Poet: kanwal naveed By: kanwal naveed, karachi

سب کچھ اس وقت تک تھا پاس میرے
پاس تھا جب تک یہ احساس میرے

سر کے نیچے تھے دونو ں ہاتھ
ہتھیلیوں کے درمیان تھا اس کا ساتھ

ساتھ اک حسین سپنے کا
ساتھ تھا کسی اپنے کا

جس کے وجود سے میرا وجود معطر تھا
زندگی کی سانسوں میں بس کوئی عطر تھا

کھلی آنکھ تو دونوں ہاتھ خالی تھے
زہین کے سب دریچے بنے سوالی تھے

جب وجود سے احساس کھو گیا میرے
رونا سپنوں کو شاہد دھو گیا میرے

کتنے لوگوں کو مایوس روز کرتی ہوں
اسی احساس سے روز روز مرتی ہوں

محبت کی طلب میں پاس میرے آتے ہیں
خالی ہاتھ ہی لوگ سبھی جاتے ہیں

کہاں سے دوں جو ہے ہی نہیں پاس میرے
یہی رہتا ہے فقط دل میں احساس میرے

Rate it:
Views: 467
10 Aug, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL