احساس ضبط
Poet: Arif Raja By: mohammed arif raja, Madinahہم تو احساس ضبط کے پابند تھے مگر
اس کی وفا کے ڈھنگ سے برباد ہو گئے ہیں
جس کی خلش میں ہم یہاں تڑپے خوشی خوشی
ہم سے بچھڑ کے وہ کہیں آباد ہو گئے ہیں
ہم دہر و حرم کی سوچ میں ڈوبے رہے مگر
وہ ہر قفس کو توڑ کے آزاد ہو گئے ہیں
ہم کو بقائے بخت سے کچھ بھی تو نہ ملا
سب لوٹ کے وہ ہم سے نا شاد ہو گئے ہیں
تحت جنوں کی ہر طلب خوش رنگ تھی مگر
عقل جہاں میں پہنچ کر نا ساز ہو گئے ہیں
شرف وصل جو ہو تو کہہ دیں گے باد بار
سب کچھ گنوا کے ہم ھی گنہگار ہو گئے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






