احساس کی نظر سے تجھ کو چرا کے لاؤں
Poet: Yaseen Shahi By: Yaseen Shahi, Islamabadاحساس کی نظر سے تجھ کو چرا کے لاؤں
امبر سے چاندنی کی اک شال جا کے لاؤں
بارات جگنوؤں کی ہو رات خوشبوؤں کی
ہو سیج دل کی تجھ کو دلہن بنا کے لاؤں
ہاں جو ملول دل کو مسرور کر کے رکھ دیں
تیرے لئے کچھ ایسی شامیں سجا کے لاؤں
خوشیاں خوشی سے تجھ کو صدیاں بھی دان کر دیں
مٹھی میں چند لمحے ایسے چھپا کے لاؤں
رم جھم سی کوئی ساعت مل جے گر تجھے بھی
اپنی محبّتوں کے موسم دکھا کے لاؤں
گجرے میں تیرے بھر دوں تتلی کے رنگ سارے
قوس قزح سے تیرا گھونگٹ بنا کے لاؤں
رکھنا ہے پاس شاہی نے اپنے نام کا بھی
نینوں کی پالکی میں تجھ کو بٹھا کے لاؤں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






