اداس دل کو محبت کا آسرا دے گی
Poet: یونس تحسین By: Tehzeeb, Islamabadاداس دل کو محبت کا آسرا دے گی
وہ مجھ کو چھو کے مرا حوصلہ بڑھا دے گی
ذرا سی بات سہی اس کا دیکھنا لیکن
ذرا سی بات مری نیند ہی اڑا دے گی
وہ دم درود کی عادی ہے اور مجھے شک ہے
وہ اپنا پیار مجھے گھول کر پلا دے گی
تم اس کی روشنی تکنے میں گم نہ ہو جانا
وہ ایک لو ہے تمہیں آگ بھی لگا دے گی
سبھی الارم گھڑی کے فضول جائیں گے
کسی کے پاؤں کی آہٹ مجھے جگا دے گی
تو میرے سامنے چپ رہنا اور دل کی بات
تمہارے چہرے کی رنگت مجھے بتا دے گی
کسی کے پیار کی مہندی لگا لے ہاتھوں پر
مہک نہ دے گی مگر رنگ تو چڑھا دے گی
میں جانتا ہوں وہ سڑیل مزاج ہے تحسینؔ
مگر وہ میری غزل سن کے مسکرا دے گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






