اداس دل ہے اداس چہرہ
Poet: Qaisardilawar By: Qaisar Dilawar, Hassan Abdal 0314-5313104اداس دل ہے اداس چہرہ
اداس آنکھوں کو کیا کروں گا
جو تم کہو تو میں روک ڈالوں
میں چلتی سانسوں کو کیا کروں گا
بے نام وعدے اور تسلیاں
جو تم چاہو تو لوٹا دوں تم کو
میں تمہارے وعدوں کو کیا کروں گا
میرے دل میں بکھری پڑی ہیں
کبھی جو آؤ تو سمیٹو ان کو
خود ہی سوچو اور خود ہی بتاو
میں تمہاری یادوں کو کیا کروں گا
میری ہر اک گفتگو میں
تمہارا ہی ذکر تھا شامل
نام تمہارا جو چھن گیا تو
تمہاری باتوں کو کیا کروں گا
ہجوم دنیا میں دن میرا
آخرکٹ ہی جائے گا قیصر
شام ڈھلے جب یاد آئی
تنہا راتوں کو کیا کروں گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






