اداس رہنا سکھا دیا ہے، تری وفا کی عنایتیں ہیں
Poet: rehan By: Rehan Abbas, lahoreاداس رہنا سکھا دیا ہے، تری وفا کی عنایتیں ہیں
لٹا دی جس پر حیات ساری، اسی کو ہم سے شکایتیں ہیں
حضور چاہت میں سرخروئی بھی راس آئے کسی کسی کو
بہت ہیں ہم سے بھی بے مقدر کہ جیت کر بھی ندامتیں ہیں
کوئی تو پتھر پہ ماتھا ٹیکے، کسی کو بخشا ہے طورِ سینا
عطا ہے اس کی جسے نوازے ، وگرنہ سب کی ریاضتیں ہیں
او میرے صاحب میں تیری داسی، تری حکومت ہیں جان و تن پر
جہاں بھی جائوں میں زندگی بھر، تری نظر کی حفاظتیں ہیں
کسی کی آنکھوں کا خواب ہیں وہ، کوئی یہ سمجھے عذاب ہیں وہ
جو مل نہ پائے انہی کو چاہے، عجب یہ دل کی روایتیں ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






