اداس لڑکی
Poet: Fakhra Batool By: Shazia Hafeez, Attockاداس لڑکی
جو بن پڑے تو
یہ خود سے کہنا کبھی تو جاناں
کہ تم کو آ تی ہے یاد اب بھی
وہ ایک سندر اداس لڑکی
وہ کھوئی کھوئی آنکھوں والی
وہ الجھی الجھی سی سوچوں والی
وہ جھوٹی مسکان کو لبوں پر سجانے والی
وہ اپنے بارے میں دھیرے دھیرے سے تم کو سب کچھ بتانے والی
وہ بات بےبات روٹھ کر مان جانے والی
کبھی کبھی تو حساب وحد سے بڑھ کر ہے آنے والی
ستانے والی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منانے والی
وہ ایک سندر اداس لڑکی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






