اداس ہو کے بھی اداس ہو نہیں پاتی
Poet: UA By: UA, Lahoreاداس ہو کے بھی اداس ہو نہیں پاتی
میں پاس ہو کے اپنے پاس ہو نہیں پاتی
میری تنہائی میرے چاروں طرف پھیلی ہے
تنہا ہو کے بھی مبتلائے یاس ہو نہیں پاتی
قہقہوں میں ڈوبی میری تنہائی کہتی ہے
بزمِ شور و شغف مجھکو راس ہو نہیں پاتی
کس خیال کی مہک اتاروں اپنی سانسوں میں
جز تیری یاد پاس کوئی باس ہو نہیں پاتی
میری نظر میں جو تصویر پہلے سے سمائی ہے
ماسوا اس کے شبیہ کوئی خاص ہو نہیں پاتی
جو اپنے من کے دیوتا کی داسی بن کے رہ جائے
وہ کسی اور من مندر کی داس ہو نہیں پاتی
وقت کے مقابل جس آس پہ ڈٹی ہے وہ
ہر آس پوری ہوتی ہے وہ آس ہو نہیں پاتی
محنت سے کتراتی مسائل سے گھبراتی
میں کبھی لائقِ سپاس ہو نہیں پاتی
تدبر اور تحمل سے اگر یہ کام کر لیتی
کبھی یوں باختہ حواس ہو نہیں پاتی
ساس ماں ہے اور ماں بھی ساس ہے تو پھر
کیوں ماں کے جیسی کوئی ساس ہو نہیں پاتی
مجھے عظمٰی اگر چاہت نہ ہوتی خود شناسی کی
ابھی تک میں بھی خود شناس ہو نہیں پاتی
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






