اداس ہوتی ہوں کب
Poet: Farkhanda Rizwi By: Shazia Hafeez, Attockمیں اداس کہاں ہوتی ہوں
تمہارے پاس یا تنہائی میں
ہونٹ مسکرائے
تو پھولوں سی ہنسی ہوتی
کبھی آنسوؤں کا آبشار بہہ
ہر بار ہی اس میں
ہاتھ دھوئے میں نے
پھر انہیں موتیوں کو بسایا
آنکھوں میں اس طرح سے کہ
فاصلوں میں بھی میرا ساتھ رہے
دوریوں میں بستے ہی ہسنی کی کھنک یاد آئی
آنسوؤں کی نمی
ہاتھ کی انگیوں پہ محسوس کی
خوش گماں یہ سماعتیں چومتی ہیں
ہر آہٹ کو
خوشبو تیری ہر سلوٹ میں پاکر
لپٹ لپٹ کر روئی ہوں
سوچتی ہوں اکثر
جی رہی ہوں تمہاری محبت میں
یا
مر رہی ہوں تمہاری چاہت میں
میں بھلا اداس کب رہتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







