اداسی
Poet: kanwal naveed By: kanwalnaveed, karachiجیون سفر میں کیا کیا گزرا سفر کا ہم سے حال نہ پوچھو
دل پر اپنے کیا کیا بیتی دل سے کوئی بھی سوال نہ پوچھو
دنیا داری میں غرق سارے بہت نبھالی ہم نے قرابت داری
زخم لگا کر نمک لگانا لوگوں کاہے کیا کیا کمال نہ پو چھو
ہم تم ہیں ہم سفرایسے جیسے سمندر کے ہو ں کوئی دو کنارے
مل کر بھی تم سے کبھی نہ ملنا،دل کو کیسا ہے ملال نہ پوچھو
ہر بلندی کی قیمت ہے ہوتی یوں ہی نہیں کوئی منزل کو پاتا
تمہاری بلندی پر نظرہے تو پھر وہ ابتداٗ کا زوال نہ پوچھو
شکستہ جسم ،زخمی پاوں کھلا آسمان اورامید ہے تم سے
رُح پروہ پھوار کا عالم باطن کے لیےتھی کیا ڈھال نہ پوچھو
اک تلخ حالت، انتظار کا عالم پھر تمہارا اس قدر دیر سے آنا
اس وقت میں ہر اک لمحہ کیسے لگ رہا تھا ایک سال نہ پوچھو
سونپا ہے تم کو وجود اپنا تو جو چاہو کرو تم تمہاری مرضی
چاہت تمہاری ہے تمنا میری، مجھ سے میرا خیال نہ پوچھو
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






