اداسی

Poet: kanwal naveed By: kanwalnaveed, karachi

جیون سفر میں کیا کیا گزرا سفر کا ہم سے حال نہ پوچھو
دل پر اپنے کیا کیا بیتی دل سے کوئی بھی سوال نہ پوچھو

دنیا داری میں غرق سارے بہت نبھالی ہم نے قرابت داری
زخم لگا کر نمک لگانا لوگوں کاہے کیا کیا کمال نہ پو چھو

ہم تم ہیں ہم سفرایسے جیسے سمندر کے ہو ں کوئی دو کنارے
مل کر بھی تم سے کبھی نہ ملنا،دل کو کیسا ہے ملال نہ پوچھو

ہر بلندی کی قیمت ہے ہوتی یوں ہی نہیں کوئی منزل کو پاتا
تمہاری بلندی پر نظرہے تو پھر وہ ابتداٗ کا زوال نہ پوچھو

شکستہ جسم ،زخمی پاوں کھلا آسمان اورامید ہے تم سے
رُح پروہ پھوار کا عالم باطن کے لیےتھی کیا ڈھال نہ پوچھو

اک تلخ حالت، انتظار کا عالم پھر تمہارا اس قدر دیر سے آنا
اس وقت میں ہر اک لمحہ کیسے لگ رہا تھا ایک سال نہ پوچھو

سونپا ہے تم کو وجود اپنا تو جو چاہو کرو تم تمہاری مرضی
چاہت تمہاری ہے تمنا میری، مجھ سے میرا خیال نہ پوچھو

Rate it:
Views: 504
19 Sep, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL