اداسی کا سایہ

Poet: شمس الحق رضوی By: Shamsul Haq, Bahawalnagar

کئی دنوں سے عجب خوف میں بستا ہوں میں
اپنی ہی موت کی آہٹ سے نہ ڈرتا ہوں میں

ڈر ہے اس لاش کا جو گھر میں سجائی جائے
اس جنازے کی اذیت سے ہی ڈرتا ہوں میں

روح لرزتی ہے مری سوچ کے یہ منظرِ غم
اپنی دہلیز کی اس وحشت سے ڈرتا ہوں میں

جس نے لوری کی صدا دے کے پالا تھا مجھے
ماں کی اس ٹوٹتی ہمت سے ہی ڈرتا ہوں میں

پھر وہ کونہ کہ جہاں بہنیں کھڑی ہوں گی مری
ان کی آنکھوں کی مری حسرت سے ڈرتا ہوں میں

بھائی کہہ کر جو پکاریں گی وہ پتھر کی طرح
ان صداؤں کی ہی ہیبت سے ہی ڈرتا ہوں میں

نہ رہی زندگی تو یاد آئیں گے سب ہی 'شمس'
بچھڑنے کی اسی تلخی سے ڈرتا ہوں میں

Rate it:
Views: 51
17 Mar, 2026
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL