وہ پیار دے گیا ہے جتا کر نہیں گیا

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistan

"وہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا"
دل کی گلی میں شور مچا کر نہیں گیا

ہم دیکھتے ہی رہ گئے اس کی طرف مگر
وہ پلٹ کر بھی ہم کو بلا کر نہیں گیا

آنکھوں میں چھوڑ گیا ہے وہی اداسیاں
خوابوں کا شہر تھا جو بسا کر نہیں گیا

ہم نے تو اس کے نام پہ سب کچھ لٹا دیا
وہ اپنے دل کا حال سنا کر نہیں گیا

ویران ہو گئی ہیں مرے دل کی بستیاں
وہ روشنی کا دیپ جلا کر نہیں گیا

اب تک اسی خیال میں دل ڈوبتا ابھرتا
وہ ایک بار ہمیں منا کر نہیں گیا

وشمہ یہ درد دل میں رہے گا تمام عمر
وہ پیار دے گیا ہے جتا کر نہیں گیا

Rate it:
Views: 67
16 Mar, 2026
More Sad Poetry