ادراک سے ہے محروم ابھی، ہر بات ادھوری ہے عاشی
Poet: Aisha Baig Aashi By: Aisha Baig Aashi, karachiادراک سے ہے محروم ابھی، ہر بات ادھوری ہے عاشی
اظہار کی بنجر دھرتی پر برسات ادھوری ہے عاشی
سورج کی کرن میں تاب نہیں، تاروں کی چمک میں آب نہیں
ہر صبح ادھوری لگتی ہے ، ہر۔۔۔ رات ادھوری ہے عاشی
پھولوں میں مہکتے رنگ نہیں، خوشبو میں چمک آہنگ نہیں
کیا پیش کروں، کیا نذر کروں، سوغات ادھوری ہے عاشی
خواہش کا روپ سنہرا ہے، کچھ سمجھوتوں کا پہرا ہے
تقسیم ہُوئی ہُوں ٹکڑوں میں۔ یا۔۔۔۔ ذات ادھوری ہے عاشی
دریا کا کنارہ اک جانب، قسمت کا ستارا اک جانب
اک سُوکھے پیڑ کی ساحل پر ، اوقات ادھوری ہے عاشی
خُود مٹنے کی خواہش ہو جہاں، قربانی کی سازش ہو جہاں
وہ جیت مکمل جیت نہیں، وہ مات ادھوری ہے عاشی
گُم سُم ہے تخیل کا سرگم، شہنائی تغزل کی بے دم
قرطاسِ سخن پر حرفوں کی بارات ادھوری ہے عاشی
اخلاص، ایثار سے عاری ہو، اور مقصد کاروباری ہو
وہ دان ادھوارا ہے عاشی، خیرات ادھوری ہے عاشی
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






