ادوھوری محبت
Poet: zulifqar rasheed By: Zulifqar Rasheed, Birminghamچلو یہ بھی کہانی ہم ادھُوری چھوڑ دیتے ہیں
جو تعلق ٹُوٹنا ہے کل، ابھی سے توڑ دیتے ہیں
تُمہارا دِل ہے شیشے کا، اِسے پَتھر بنا ڈالو
کہ سادہ لوح لوگ اکثر ، یہ شیشہ توڑ دیتے ہیں
کُچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں، رفاقت کر نہیں سکتے
نیا عاشق نظر آئے تو پِچھلا چھوڑ دیتے ہیں
بَھرم ہے اپنی اُلفت کا، کہ اب تَک چُپ ہیں ورنہ
جو ہم کرنے پر آجائیں، تو دریا موڑ دیتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






