ادھوری محبت
Poet: anam By: anam, karachiحائل جو درمیاں انا کی رنجیرہو جایا کرتی ہے
پھر کہیں گم محبت کی تقدیر ہو جایا کرتی ہے
اک خواب جو دیکھا تھا کبھی ہم بچھڑ گئے تم سے
حقیقت میں اس خواب کی تعبیر ہو جایا کرتی ہے
محبت گم ہو جاتی ہے ماضی کے اندھیروں میں
پھر یادیں ہی اس قصے کی جاگیر ہو جایا کرتیں ہیں
پھول بہاریں نظارے سبھی بے معانی لگتے ہیں
بے رنگ زندگی کی تصویر ہو جایا کرتی ہے
گم نام منزل کی طرف پھر تنہا سفر ہوتا ہے
ادھوری محبت کی اک نئی نظیر ہو جایا کرتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






