ادھورے خواب کی انوکھی تعبیر ہوتی ہے

Poet: امرحہ گیلانی By: امرحہ گیلانی, Multan

ادھورے خواب کی انوکھی تعبیر ہوتی ہے
ہر ہاتھ میں محبت کی لکیر ہو تی ہے

ضروری تو نہیں ہوتا قتل ہتھیا ر سے ہو
نگاۂ یار بھی امرحہ عجب شمشیر ہوتی ہے

محبت کی راہ میں حائل اپنے ہی رہتے ہیں
ہمارےپیروں میں رشتوں کی زنجیر ہوتی ہے

اکثرہار جاتےہیں سکندر بھی کھلاڑی بھی
سنو جوجیت ہوتی ہےوہی تقدیر ہوتی ہے

محبت خودفراموشی محبت خواب جزیرہ
نگاہوں میں دم آخر بس اک تصویر ہوتی ہے

محبت کا صحیفہ دلوں میں جب اترتا ہے
نہیں پھر ختم چاہت کی تفسیر ہوتی ہے

رکھا ایسا سحر امرحہ محبت میں خدا نے
غرور بےنیازی وگرنہ کہاں اسیر ہوتی ہے

Rate it:
Views: 345
08 Dec, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL