ارادہ تھا کہ اب کے رنگ دنیا دیکھنا ہے

Poet: حسن عباس رضا By: Aqib, Swat

ارادہ تھا کہ اب کے رنگ دنیا دیکھنا ہے
خبر کیا تھی کہ اپنا ہی تماشا دیکھنا ہے

ڈسے گا بے بسی کا ناگ جانے اور کب تک
نہ جانے اور کتنے دن یہ نقشہ دیکھنا ہے

دعا کا شامیانہ بھی نہیں ہے اب تو سر پر
سو خود کو حدت غم میں جھلستا دیکھنا ہے

نہیں اب سوچنا کیا ہو چکا کیا ہوگا آگے
بس اب تو ہاتھ کی ریکھا کا لکھا دیکھنا ہے

بہت دیکھا ہے خود کو رنج پر تقسیم ہوتے
اور اب تقسیم در تقسیم ہوتا دیکھنا ہے

میں پھر اک خط ترے آنگن گرانا چاہتا ہوں
مجھے پھر سے ترا رنگ بریدہ دیکھنا ہے

تو سرتاپا زبانی یاد ہو جائے گی مجھ کو
کہ اب میں نے تجھے اتنا زیادہ دیکھنا ہے

حسنؔ میں ایک لمبی سانس لینا چاہتا ہوں
میں جیسا تھا کسی دن خود کو ویسا دیکھنا ہے

Rate it:
Views: 383
16 Sep, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL